علامہ اقبال شاعری منزل سے اگے بڑھ کر منزل تلاش کر مل جائے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کر
2022 سمندر چپ ہی رہتا ہے کسی طوفان سے پہلے
سمندر سارے شراب ہوتے تو سوچو کتنے فساد ہوتے
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
علامہ اقبال کی شاعری
سمندر میں ا ترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں وصی شاہ
گھر جلتا رہا اور سمندر قریب تھا
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے علامہ اقبال
علامہ اقبال کی شاعری نظم
پسند اور محبت
